بنگلورو، 25/جون(ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں بی جے پی نے حجاب پر پابندی، جانوروں کے ذبیح پر پابندی، حلال کٹ، غیر مسلمانوں کے تہواروں کے موقعوں پر مسلمانوں کو کاروبار سے روکنے اور ان جیسے کئی مسلم مخالف قوانین، مسلمانوں پر حملوں وغیرہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے سینئر بی جے پی رہنما اور سابق ریاستی وزیر آر اشوک نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ریاست کی سابقہ بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کو دیا گیا 4فیصد 2Bریزرویشن ختم کر کے بہت بڑی حماقت کی تھی جس کی وجہ سے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی جے پی کی طرف سے شکست کے اسباب کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کی گئی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی منی رتنا نے کہا کہ کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے دور میں جب کانگریس نے پے سی ایم تحریک شروع کر کے بی جے پی کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا تواسی وقت اس کے لئے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے ان کو جیل میں ڈالا جانا چاہئے تھا،ا گر ایسا ہوتا تو شاید ریاست میں بی جے پی کو اس قد ر بدترین شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اسی طرح بٹ کائن اور40فیصد کمیشن خوری کے پروپگنڈہ کا بھی بی جے پی قیادت جواب دینے میں ناکام رہی۔ منی رتنا نے کہا کہ کرناٹک میں دراصل کانگریس کی جیت نہیں ہوئی ہے بلکہ بی جے پی اپنی ہی کوتاہیوں سے ہارگئی ہے۔